Saturday, 24 December 2016

پرانی دوست کے ساتھ دل بہلایا Sex with Old friend

 ہم میاں بیوی کی ہے میں اپنی بیوی سے بہت تنگ آ چکا تھا وہ ہر وقت مجھے پریشان کرنے کے لیئے کوئی نا کوئی موضوع چھیڑے رکھتی ہے مجھے اس کی عادت اب پسند نہیں تھی بات بات پہ  لڑکی بنا لیتی تھی آج صبح اس سے لرائی ہوئی تو میں  نے ا سکو کہا میکے کچھ دنوں کے لیئے چلی جاو شائد میں  غلط ہوں اگر مجھے تنہائی میں لگا کہ میرا فالٹ ہے تو میں سوری کر لونگااور اپنی اسلاح کی کوشش کرونگا اور اگر تم  تنہائی میں سوچو کی غلط ہو تو معافی مانگ لینااور اس کے ساتھ ہی وہ چلی گئی
اب میں اگلی جان بڑھتا ہوں اردو سیکس ستوری کی طرف میرا نام عامر ہے میں ایک نجی کمپنی میں کام کرتا ہوں ایک دن میں اپنے گھر جلدی آگیا اور اسوقت میرا گھر خالی تھا میں نے سوچا کہ موقع اچھا ہے اور میں اپنی پرانی دوست جس سے میں کافی دن سے نہیں ملا اسکی پاکستانی لڑکی کی سخت چدائی مارو شادی کے بعد اس سے چودائی نہیں کر سکا تھا میری شادی کو ایک سال ہونے والا تھااور اب میں اسکی چدائی مارنا چاہتا تھا اسکو بلا کر اسکے ساتھ زبردست سیکس کرتا ہوں
پھر میں نے اسکو فون کیا اور اپنے گھر کا پتہ بتا کر اسکے آنے کا انتظار کرنے لگا وہ جب آئی تو میں اسوقت ٹرائزور اور شڑٹ پہنے بیٹھا تھا میں نے اسکو اندر بلایا اور وہ ایک دم زبردست فٹنگ کے کپڑے پہن کر میرے سامنے بیٹھی تھی اسکو اندازہ تھا کہ یہاں کیا ہونا ہے اسکو دیکھ کر میرا اسکو چودنے کا دل کرنے لگا میں نے اسکو چائے پلانے کے بعد اس سے باتیں کرتا ہوا اسکی جوانی کی چھاتی کو آرام سے دبایا ا ف ف کیا نرم اور بڑے ممے تھے  لگتا ہی نہیں تھا کہ ایک سال پہلے والی وہ لڑکی ہے اب وہ اور بھی ماڈرن اور انگریزی فلمیں دیکھ دیکھ کے چدائی کی پاپی ہو چکی تھی
اسکے میں نے پھر اسکو اپنی گود میں اٹھا کر بیڈ روم لے جاکر اسکی جوانی کو بستر پر پٹخا وہ مسکرا کر چدنے کے لئے تیار تھی اور میرا لنڈ ایک دم ٹائٹ خوار ہو رہا تھا میں اسکی جوانی کو آج کتے کی طرح چودنے کے لئے اسکو اپنی باہوں میں دبائے اسکے اوپر لیٹ کر اسکو زبردست فرینچ کس کرنے لگا وہ بھی میرے بالوں کو سہلاتی ہوئی مجھے مم م کرکے چوس رہی تھی میں اسکی جوانی کو چوم چاٹ کر اسکا زبردست مزہ لے رہا تھا ساتھ ہی اسکے پورے  ہاٹ سیکسی جسم پر ہاتھ پھیررہا تھا
کچھ دیر تک ایسا کرنے کے بعد ہم دونوں فل گرم خوار ہوگئے  میرا لن بھی تن گیا تھااور ا سکی پھدی بھی لن مانگ رہی تھی مجھ سے کہنے لگی شادی کے بعد بھول ہی گئے ہو میں نے ساری مجبوریاں بتائیں اور وہ بولی اپنا گھر خران نا کرنا ہمارا کیا ہے ہم تو اپنی زندگی کسی نز کسی طرحگزار لینے والی لڑکیاں ہں  خیر ہم نے چدائی اور سیکس کے ساتھ ساتھ پرانی چدائی کی یادیں بھی تازیں کیں میں نے اسکی جوانی کی قمیض کو اوپر کرنے کے ساتھ اسکی برا ہٹائی اور اسکی چھاتی کے بڑے ممے اور نوکیلے گلابی نپلز کو چوس کر دبا کر اسکے مزہ لوٹنے لگا
وہ س س س  ھ ھ ھ کرنے لگی اور میں اسکو دیر تک چومتا چاٹتا رہا میں نے اپنے کپڑے اتارے اور اسکی شلوار کو کھینچ کر ایک ہی جھٹکے میں اتار کر اسکو فل ننگی کر دیا وہ اب فل ننگی میرے نیچے لیٹی تھی اور میں اس کے اوپر لیٹ کر اسکو تیز تیز چومنے چاٹنے اور اسکے جسم کا فل مزہ لوٹ رہا تھا وہ بھی زبردست خوار تھی اور میرے لنڈ کو اپنے ہاتھوں سے رگڑ سہلا رہی تھی میں نے اسکو اوپر سے نیچے تک اسکی جوانی کو چوم چاٹ کر اسکو دیر تک چوما اور پھر اسکی پھدی کو اپنی انگلیوں سے چودنے لگا  ا سکی پھدی آج بھ اتنی ہی جوان تائیٹ کوار تھی جتنی پہلی بار چودنے کے وقت ہوا کرتی تھی اس نے اپنے بدن کو سنبھال کے رکھا ہوا تھا
جس سے اسکے منہ سے ایک سسکیاں نکلی اور وہ اپنی چوت کو اوپر کی طرف اچھالنے لگی میں نے اسکو 5 منٹ تک انگلیوں سے چودنے کے بعد اسکی جوانی کی پھدی پر اپنا لنڈ رگڑنا شروع کردیااب اسکو اپنا لنڈ چسوانے کے ساتھ اسکو منہ سے چودنے لگا اور اسکی پھدی کو چاٹنے لگا اسکا جسم گورا سیکسی جوان مست چکنا فیگر نرم بڑے ممے خوار نوکیلے نپلز اور چکنی جوان ٹائٹ گیلی چوت کا تھا وہ اور میں سیکس کے نشے میں مست خوار تھے میں اسکو اپنی بانہوں میں دبائے اسکی ٹانگوں کو اوپر کیا
اور اسکی چوت پر لنڈ کو رگڑنے کے ساتھ آرام آرام سے اندر گھسانے لگا اسکی سیکسی آوازیں نکلنے لگیں اور ہھر میں نے اسکی پھدی میں زور دار لنڈ کے دھکے لگانے شروع کردیئے اسکی سیکسی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھی اور وہ مجھے اپنی باہوں میں جکڑ کر اپنی ٹانگوں کو میرے اوپر لپیٹ کر مجھے اور چودنے کا بول رہی تھی میں نے اسکی چوت میں زبردست دھکے لگانے کے بعد اسکو گھوڑی بنایا اور اسکی چوت کو گھوڑی بنا کر اسکو چودنے لگا اب وہ اور بستر میرے دھکوں سے فل ہل رہے تھے
اور اور وہ اپنی چوت کو پیچھے کی طرف میرے لنڈ پر دھکیل رہی تھی میں نے کوئی اسکی جونای کو پندرہ  منٹ تک چودنے کے بعد اسکے منہ پر اپنی مٹھ نکال دی پھر اسکی چوت کو انگلیوں سے چود کر اسکی پھدی کو فارغ کیا وہ ایک دم مست ہو گئی اور پھر ہم ایک ساتھ دیر تک لیٹے رہے اور چوم کر چھیڑ کر مزہ لیتے رہے پھر ہم نے ساتھ نبہایا اور وہ گھر چلی گئی ایسی لش چدائی کا مزہ پاکستانی لڑکی کی سخت چدائی کا کوب ملا تھا اور وہ  میری اس اردو ستوری کی ہیتروئین جاتے ہوئے کہنے لگی جب تک بیوی نا ہو مجھے بلا لیا کرو میں اب بھی تم سے اتنا ہی پیار کرتی ہوں کیا ہوا ہم کال گرل لڑکیوں کی قسمت میں پیار اور عزت نہیں ہوتی

بارش تنہائی وہ اور میں sex in Rain in Karachi

بارش کا پاکستانی شہر کراچی کا زبردست موسم مجھے بہت پسند ہے  اس موسم میں سہانی یادیں ہیں میرے جوانی کے دور کی وہ ایک راسلے میں کام کرنا پھر چھوڑ کے فلموں کے سکرپٹ لکھنے کا پنگا اور نا جانے کیا کیا اب تو ا سبات کو سالوں بیت گئے ہیں اور بالوں میں چاندی بھر گئی ہے لیکن کیا کریں دل تو  بچہ ہے جی اس سہانے موسم میں نہانے اور گھومنے کا اپنا ہی مزہ ہے اور بارش میں بھیگی ہوئی لڑکی تو مجھے بہت پسند ہے  کیا بدن نکھر کے مکھن کی طرح ملائم ہو جاتا ہے
اور مجھے بہت اچھی لگتی ہے ایسے ہی ایک بارش کا ذکر ہے میں آفس سے گھر آرہا تھا مجھے بس اسٹاپ پر ایک پاکستانی لڑکی نظر آئی وہ اکیلی کھڑی تھی  ہائے اکیلی لڑکی کھڑی ہو اور ہم اس کو یونہی کھڑا رہنے دیں یہ کیسے ممکن ہے چاہے پنگا ہی کیوں نا ہو جائے ہم تو لفٹ کی آفر ضرور کرینگے کیونکہ دل ہے پاکستانی ہندوستانی بھی کہہ سکتے ہیں اگر آپ ہندوستان رہتے ہوں لیکن مٰں پاکستانی ہوں سو میں کہوں گا دل ہے پاکستانی ویسے فرق کوئی نہٰں ہے اور نا پڑتا ہے دونوں جانب ایک ہی جیسے ترسے ہوئے رہتے ہیں
روڈ بھی سنسان تھا بارش کافی دیر سے ہو رہی تھی اور کافی تیز ہو رہی تھی لوگ بہت کم تھے سڑک پہ اور اس دوران یوں ایک رومانٹک سین میرا منتظر تھا کیا سین فلمی ہی تھا بالکل  جیسے  انڈین فلمی چنبیلی میں   ایک رات بارش اور کرینہ کپور ایک رنڈی کے کرادر مٰں موجود ہوتی ہے لیکن وہ تو آفس ورک والی لیڈی لگ رہی تھی ا سکے پاس جو بیگ تھا وہ عام طور پہ آفس گوئنگ والیوں کا ہوتا  ہے بارش کافی تھی اس لیے روڈ پر گاڑیاں کم تھیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر تھی
میں نے اپنی کار اس کے پاس روکی اور اسے اشارے سے کار میں بیٹھنے کا کہا اس نے منع کردیا  میں نے پھر کیا محترمہ میں بے کار لفنگا نہٰں ہوں  اور اپنا وزٹنگ کارڈ نکال کے ہاتھ باہر کیااور ا سکو دکھایا اس نے پکڑا اور پڑھنے کے بعد ایک دم بیٹھ گئی جیسے تسلی ہو گئی ہو میں کیا ہوں  چلو آپ کو بھی بتا دیتے ہیں میرے کارڈ پہ لکھا تھا ڈائریکٹر نیوز  اور آگے پبلشنگ ادارے کا نام میں نہیں  بتا سکتا کیونکہ پرائیوسی کا معاملہ بھی ہے نا یار  کہیں آپ مجھے ڈھونڈتے ہوئے وہاں آ جائیں اور  مجھے نوکری سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں
پھر میں نے کار کا شیشہ کھولا اور اسے کہا میں اسے گھر تک چھوڑ دوں گا میرے ساتھ بیٹھ جائے بارش تیز ہے اور اس ٹائم گاڑی ملنا مشکل ہے وہ فضول میں اپنا ٹائم ضائع کر رہی ہے اور پریشان ہو رہی ہےبارش میں بھیگنے کی وجہ سے اس پاکستانی لڑکی کا پورا خوبصورت بدن گیلا ہو رہا تھا میں نے اوپر سے نیچے تک اسے دیکھا وہ بہت خوبصورت تھی اور بھیگ کر اور بھی اچھی لگ رہی تھی ویسے بھی مجھے بارش میں بھیگی ہوئی لڑکیاں بہت پسند تھیں
میں نے اس کا نام پوچھا اسے کہاں جانا ہے یہ پوچھا اور پھر اسے کھانے کے لیے کہا پہلے تو اس نے منع کردیا لیکن میرے اصرار پر وہ راضی ہو گئی اور پھر ہم نے ایک اچھے سے ہوٹل پر کھانا کھایا اور پھر میں اسے اس کے گھر چھوڑنے گیا جب گاڑی اس کے گیٹ پر روکی تو اس نے مجھے اندر آکر چائے پینے کا کہا میں راضی ہو گیا اور اس پاکستانی لڑکی کے ساتھ اندر چلا گیا اس کے گھر میں کوئی نہیں تھا وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گئی اور خود چائے بنانے چلی گئی چائے بناکر
وہ اور بھی اچھی لگ رہی تھی نئے کپڑۓ پہن اور اور گھیلی خوبصورت بدن کی جوانی تو لش تھی مگر اب وہ اور لش گرم لگ رہی تھی  میں نے  بائی دے وے پوچھ ہی لیا کہ آپ کیا کرتی ہٰں تو بولی ایک پرائیوڑ یونیورسٹی  میں نفسیات  کی  لیکچرر ہوں گاڑی خراب ہو گئی ورکشاپ لینے گئی وہ ابھی ٹھیک نہٰں ہوئی تھی رکشہ والے بھی نہیں  اس وقت نظر آ رہے تھے پریشان تھی کہ اس وقت آپ نے آفر کر دی مجھے اسکو چودنے کے لیئے بہہت مزہ آنے والا دل کرنے لگا تھا وہ میرے پاس سامنے بیٹھ گئی
اور میں نے اسکے پاس جاکر اسکے ساتھ بیٹھ کر اس لڑکی کا نرم ملائم ہاتھ پکڑ کر اسے گال پر کِس کرنے لگا وہ گھبرا رہی تھی  میں نے کہا قسم سے کہتا ہوں تم نفسیات کی ماہر ہوں میں جب بھی تم جیسی شخصیت کی مالک لڑکی دیکھتا ہوں نہٰں رہ پاتا پلیز کیا تم میرے ساتھ کچھ پل گزارنا چاہو گی میں اچھا انسان ہوں دل کا بھی اور اخلاق کا بھی ا سنے میری آنکھوں میں دیکھا اگرچہ ماہر نفسیات وہ تھی لیکن میں جان گیا تھا وہ مان  چکی ہے
میں نے اسے رسم کے طور پہ  کہا ڈرو نہیں میں ہوںبہت اچھا دوست بن سکتا ہوں  اور پھر اسکو کسنگ کرنے لگا اس کے سارے پاکستانی لڑکی کے بدن سے مست کپڑے  اتارنے لگا پہلے تو روک دیا  مگر پھر ننگھی ہونے لگی اور وہ بھی مجھے موقع دیکھ کر ڈرتی ہوئی کِس کرنے لگی پھر میں نے اس کے زبردست جوانی والے جسم کے مست ممے چوسنے شروع کئے اس پاکستانی لڑکی کے بڑے والے جوان نوک والے ممے اپنے منہ میں لینے سے مجھے اور بھی مزہ آنے لگا وہ بہت زیادہ ہی گرم ہو رہی تھی اسکی سسکیاں نکل رہی تھی
اس نے میرا تنا ہوا کھڑا لنڈ پکڑ کر مسلنا شروع کیا مجھے بھی اسکی جوانی کو لوٹںے اور اسکے ہاتھ میں اپنا لنڈ پکڑ کر مزہ آنے لگا پھر اس نے میرا کھڑا ہوا لنڈ اپنی چکنی مست جوانی کی ننگھی چوت پرخو زور سے رگڑنا شروع کیا پھر میں نے اپنا کھڑ ہوا تنا ہوا لنڈ اس کی چکنی جوان چوت میں ڈالا
وہ زور سے ایک دم چیخی مجھے اس کی چیخوں پر اور سکس آنے لگا اور مزہ آرہا تھا اور میں اسے خوب جھٹکے دیکر چودنا چاہ رہا تھا لیکن وہ شریف لڑکی تھی اس نے زیادہ چدائی نہیں لگوا رکھی تھی مجھے اس پہ ترس آنے لگااور میں  نے اس رومانٹک شام کی طرح رومانٹک انداز سے ا سکو مستی اور پیار سے لبریز سیکس کیا دھیرے دھیرے کبھی پوز بدل کے ا سکو سکون دیکر فارغ ہوا اور دوستوں اردو سیکس کہانی کے آخر میں بتاتا چلو اس لڑکی نے تین سال میرے ساتھ گزارے
پھر خاندانی وجوہات کی بنا پہ ساری فیملی یو کے چلی گئی اور ابھی بھی مجھے کچھ دیر پہلے ا سکی کال آئی ہے اور میں نے اس کو بتایا کہ کہانی لکھ رہا ہوں تیری اور اپنی وہ ہنس دی اور بولی تم کبھی نہیں سدھروں گے اور فون بند ہوگیا وہ سب جانتی ہے میں نے کب کیا کیا ہے ا سنے ابھی تک شادی نہیں کی مجھے اپنے پاس بلا رہی ہے لیکن میں کیسے جا سکتا ہوں میں ماضی پرست  ہوں پرانے خیالات کا مرد  ہوں جو اپنے وطن کی مٹی  کی خوشبو سے دور نہیں جا سکتا۔ میری کہانی اچھی لگی ہو تو مجھے ای میل کیجئے گا۔

Sex Story Change of Wife بیوی کی تبدیلی

ہیلو فرینڈز میں آج آپ سب کو ایک کہانی سناؤں گی کہ ایک دن مجھے ایک لڑکے نے پرپوز کیا لیکن میں نے کافی دیر تک اس کو جواب نہ دیا کیوں کے میں اس کو بلکل بھی پسند نہیں کرتی تھی پھر میں نے کافی دنوں تک اس پر سوچا کہ میں ٹھیک کر رہی ہوں کہ غلط پھر مجھے جواب ہی نہیں مل رہا تھا کہ ایک دم سے پھر اس لڑکے نے مجھے راستے میں آ کر کہا کہ آپ میری بات تو سن لو یار
میں آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں میں ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں میں آپ کو پہلی نظر میں ہی دیکھ کر دیوانہ پاگل ہو گیا تھا اور آپ کو تب سے ہی پیار کرنے لگا تھا میں لیکن میں ہمت نہیں کر پارہا تھا جس سے میں اپنے دل کا حال آپ کو بتا سکتا اور وہ مجھے سے دیسی سکس  کرنا چاہتا تھا اسکا مجھے بہت بعد میں پتہ لگا
پھر اس نے مجھے کہا کہ آپ ایک مرتبہ میری بات تو سن لو تب میں نے اس کی بات سن لی وہ میرے سامنے آنے لگ گیا کہنے لگا کیا آپ نے میری بات نہیں سنی تو میں جانتا ہوں کہ میں نے کس طرح یہ دن گزارے ہیں آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کے جسم سے پیار کرتا ہوں لیکن یہ بات بالکل بھی نہیں ہے
میں آپ کے لیے جان بھی دے سکتا ہوں تو پھر میں نے اس کو چپ کروایا اور میں نے اس سے کہا کہ تم کتنے کمزور ہو تو اس نے مجھے کہا کہ میں آپ کے پیار میں پاگل ہو گیا ہوں پھر میں نے اس سے کہا کہ تم رو تو مت پھر میں نے اس کے آنسوؤں پونچنا شروع کردیا اور ایسے ہی ہم بہت زیادہ قریب آ گئے اور پھر اس نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور مجھے اپنے روم میں لے آیا اور مجھے بہت زیادہ پیار کرنے لگا
اور پھر اس نے مجھے کِس کرنا اسٹارٹ کر دیا اور کافی دیر تک مجھے کِس کرتا رہا اور میں بھی اس کو کافی دیر تک کِس کرتی رہی احھھھھھ ھھھ اور پھر اس نے مجھے گلے سے لگا لیا اور مجھے پیار کرنے لگا پھر اس نے میرے کپڑے اتارنا شروع کر دیئے. اور آہستہ آہستہ میرے بوبز دباتا رہا پھر اس نے بوبز کو چوسنا اسٹارٹ کر دیا اح اووووو پھر اس نے مجھے پیار کرتے کرتے میری چوت کو سہلانا شروع کردیا
اور کافی دیر تک میری چوت کو چاٹتا رہا اور مزے لینے لگا اففففف اووووو پھر اس نے آہستہ آہستہ اپنا لنڈ میری چوت میں ڈالنا شروع کردیا اور اندر باہرکرنے کے ساتھ ساتھ وہ جھٹکے بھی دینے لگا اور بہت جلدی جلدی اندر باہر کرتا رہا اور بہت سارا مزہ لینے لگا پھر اس نے مجھے کافی دیر تک پیار کیا اور مجھ سے پیار کے ساتھ بہت مزہ بھی لینے لگا پھر اس نے مجھے کپڑے پہنائے اور میں اپنے گھر چلی گئی
اس چدائی کے بعد میں پیار کو ماننے لگی تھی اور ہر چودنے والا مجھے اچھا لگتا تھا ایک بار میں اپنے کزن کے ساتھ کہیں جارہی تھی کہ میں نے راستے میں ایک لڑکے اور لڑکی کو دیکھا جو اپنی جان دینے کے لیے جارہے تھے اور ہمارے سامنے آگئے اور میرے کزن نے گاڑی روک دی اور میں نے اور میرے کزن نے ان سے کہا کہ آپ پاگل ہوگئے ہو کیا
جو مرنے کے لیے میری گاڑی کے سامنے آگئے ہو پھر اس نے مجھے کہا یار معاف کر دو مجھے ہم پھلے سے ہی بہت پریشان ہے . پھر میرے کزن نے اور میں نے اس سے پوچھا کہ تم لوگ پریشان کیوں ہو تو اس نے ہم لوگوں کو کہا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو بہت زیادہ پیار کرتے ہیں تو اس نے مجھے کہا کہ ہمارے گھر والے ایک دوسرے کو نہیں پسند کرتے ہیں تو اس کا نشانہ ہم دونوں بن رہے ہیں پھر میرے کزن نے کہا کہ تم چلو میرے ساتھ میں دیکھتا ہوں کون تم لوگوں کو شادی نہیں کرنے دے گا
پھر ہم لوگ ان کو اپنے ساتھ اپنے گھر پر لے گئے اور میرے کزن نے ان دونوں کی شادی کروا دی اور وہ دونوں بہت زیادہ خوش تھے ماری دوستی ہو گئی اور ایک دوسرے کی بیوی بدل کے بھی چود لیا جاتا تھااور پھر وہ دونوں بہت زیادہ قریب آگئے اور پھر اس  جوان لڑکے نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور مجھے اپنے روم میں لے آیا
اور مجھے بہت زیادہ پیار کرنے لگااور پھر وہ مجھے روم میں لے جانے کے بعد میرے ہونٹوں کو سہلانے لگا اور پھر اس نے مجھے کِس کرنا اسٹارٹ کردیا اور کافی دیر تک مجھے کِس کرتا رہا اور میں بھی اس کو کافی دیر تک کِس کرتی رہی ھھہ اور پھر اس نے مجھےگلے سے لگا لیا اور مجھے پیار کرنے لگا پھر اس نے میرے کپڑے اتارنا شروع کر دیئے
اور آہستہ آہستہ میرے بوبز دباتا رہا پھر اس نے بوبز کو چوسنا اسٹارٹ کردیا پھر اس نے مجھے پیار کرتے کرتے میری چوت کو سہلانا شروع کر دیا اور کافی دیر تک میری چوت کو چاٹتا رہا اور مزے لینے لگاپھر اس نے آہستہ آہستہ اپنا لنڈ میری چوت میں ڈالنا شروع کردیا اور اندر باہرکرنے کے ساتھ ساتھ وہ جھٹکے بھی دینے لگا
اور بہت جلدی جلدی اندر باہر کرتا رہا اور بہت سارا مزہ لینے لگا پھر اس نے مجھے کافی دیر تک پیار کیا اور مجھ سے پیار کے ساتھ بہت مزہ بھی لینے لگا پھر اس نے مجھے کپڑے پہنائےاور ہم اپنے روم میں سوگئے دونوں اور پھر ہم بہت یاد کرنے لگے اپنے پیار کو اور سوگئے اور مجھے یہ دیسی کہانی یاد ہے اور میں اس لڑکی کی جونی کو روز چودنے لگا اور اسکو ہر انداز سے اسکا مست مزہ لیتا ہے لڑکی کی جوای ایک دم مست خوار ہو گئی تھی اور اسنے دبا کر اپنی چوت میں لنڈ کا رگڑا لیا اگلی بار میرے کزن نے اس کی نئی بیوی کی رات بھر میرے سامنے پھدی ماری تھی اور میں فلمی سین کی طرح دیکھتی تھی

تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے

 میری ایک کہانی تو جاری ہے "سالی پورے گھر والی" کے نام سے۔ وہ ابھی ادھوری ہے، جلد ہی اسکو بھی اپڈیٹ کروں گی، مگر آج آپکے لیے ایک نئی اور بالکل تازہ ترین سٹوری لے کر آئی ہوں۔
جیسا کہ آپکو سٹوری کے ٹائٹل سے پتا لگ گیا ہوگا کہ یہ ایک سیاسی پارٹی کا ذکر ہورہا ہے۔ جی ہاں پاکستان میں آجکل اسلام آباد میں تحریکِ انصاف کا دھرنا چل رہا ہے اور یہ کہانی بھی اسی دھرنے کی ہے۔ میرا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی مجھے سیاست میں کوئی دلچسپی ہے۔ میری ایک دوست سمیرا اسلام آباد میں رہتی ہے۔ سمیرا میری بہت اچھی دوست ہے۔ اسکا زکر میری پہلے والی کہانی میں بھی عنقریب آئے گا۔ تو ہوا کچھ یوں کہ سمیرا نے مجھے اسلام آباد اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ اسکو یونیورسٹی کی چھٹیاں ختم ہونے والی تھیں اور اسکی فیملی کو کسی شادی میں کراچی جانا تھا لہذا سمیرا کا شادی میں جانا مشکل تھا اس لیے اس نے مجھے اپنے پاس اسلام آباد آنے کو کہا تاکہ وہ گھر میں اکیلی نہ رہے۔ میں نے بھی اپنا سامان پیک کیا اور 13 اگست کو اسلام آباد پہنچ گئی ڈائیو پر۔ 13 اگست کی شام کو میں اسلام آباد پہنچی اور سمیرا نے اپنی گاڑی پر مجھے ڈائیو ٹرمینل سے پک کیا۔ ہم سیدھے گھر گئے اور میں تھکاوٹ سے فورا ہی بستر پر جا کر لیٹ گئی۔ ایک گھنٹہ ریسٹ کرنے کے بعد سمیرا نے مجھے آوٹنگ پر جانے کا کہا اور میں فورا ہی تیار ہوگئی کیونکہ مجھے اسلام آباد دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ ہم گاڑی میں باہر گئے اور ہمارا رخ سینٹورس ٹاور کی طرف تھا ابھی گھر سے کچھ دور ہی نکلے تھے تو پتا لگا آگے گورنمنٹ نے کینٹینر لگا کر راستے بند کیے ہوئے ہیں۔ سمیرا نے گاڑی کا رخ واپس موڑا اور یو ٹرن لیتی ہوئی اور راستے سے سینٹورس جانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ ہر طرف سے راستے بند تھے۔ معلوم نہیں کون کونسے راستے استعمال کیے سمیرا نے مگر اپنی منزل پر پہنچنے میں ناکام رہی۔ مجھے بڑا افسوس ہوا کیونکہ میں پہلی بار اسلام آباد آئی تھی اور میں نے سینٹورس ٹاور کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ اور مجھے بہت شوق تھا دیکھنے کا مگر میں ناکام رہی۔ پھر سمیرا نے گاڑی ایک ریسٹورینٹ کے سامنے روک دی۔ ہم نے وہاں سے کھانا کھایا اور رات 10 بجے کے قریب گھر پہنچ گئے۔



گھر پہنچ کر ہم نے کچھ ادھر ادھر کی باتیں کیں اور سمیرا نے اپنی 40 انچ کی ایل ای ڈی پر نئی انڈین مووی ہیٹ سٹوری 2 لگا دی۔ یہ مووی سیکس سے بھرپور ہے اور سمیرا اور میں پہلے آپس میں سیکس کر چکے تھے۔ لہذا اس فلم کو دیکھ کر ہم دونوں ہی گرم ہونے لگیں اور میری نظریں سمیرا کے 36 سائز کے مموں پر جم گئیں۔ سمیرا ایک خوبصورت لڑکی ہے جس میں سیکس کی خواہش بہت ذیادہ ہے۔ 36 سائز کے گول ممے اسکی سفید قمیص میں تنے ہوئے تھے اور نیچے سے سرخ کلر کا برا نظر آرہا تھا۔ میں اپنی جگہ سے اٹھی اور سمیرا کے پاس جا کر بیٹھ گئی اور اپنے ہاتھ اسکے مموں پے رکھ دیے۔ جیسے ہی میرے ہاتھ اسکے مموں پر رکھے وہ ایک دم سے ہنسنے لگی اور بولی آج پھر سیکس کا ارادہ ہے کیا؟؟؟ تو میں نے کہا تمہارے ممے ہیں ہی اتنے پیاری اوپر سے تم نے سیکسی مووی لگا کر میری پھدی کو بھی گیلا کر دیا ہے تو تھوڑا سیکس تو ہونا ہی چاہیے۔ یہ سن کر اس نے زور سے مجھے جپھی ڈالی اور اپنے نرم و نازک ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر میرے ہونٹ چوسنے لگی۔ اسکا ایک ہاتھ میرے بالوں میں تھا اور ایک ہاتھ کمر پر رکھ کر مجھے زور سے اپنے ساتھ لگا رکھا تھا۔ میں نے بھی اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے ہپس پکڑ لیے۔ سمیرا کے ہپس بھی 36 سائز کے ہی ہیں۔ میں اسکے ہپس دپا رہی تھی اور ساتھ ساتھ ہم دونوں بھرپور کسنگ بھی کر رہی تھیں۔
میں نے اپنی زبان سے سمیرا کے ہونٹوں پر دباو ڈالا تو اسنے اپنے ہونٹ کھول دیے اور میری زبان سیدھی سمیرا کے منہ میں چلی گئی۔ اب میری زبان سمیرا کی زبان سے ٹکرا رہی تھی اور وہ میری زبان کو اپنے منہ میں لیکر چوسنے میں مصروف تھی۔ کبھی وہ میری زبان چوستی اور کبھی میں اسکی زبان اپنے منہ میں لیکر چوستی۔ کچھ دیر اسی طرح کسنگ جاری رہی اور میں ساتھ ساتھ سمیرا کی گانڈ بھی دباتی رہی۔ پھر سمیرا نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ہٹائے اور میرے کان میں اپنی زبان پھیرنے لگی۔ اسکی اس حرکت نے تو مجھے جیسے پاگل کر دیا۔ اور میں سمیرا کی بانہوں میں تڑپنے لگی۔ پھر اسکی زبان میری گردن تک آئی اور وہ میری گردن چاٹنے لگی اور ساتھ میں اپنے دانتوں سے ہلکا ہلکا کاٹنے لگی گردن پر۔ اب میرا ایک ہاتھ سمیرا کی گانڈ پر اور دوسرا ہاتھ اسکے سر پر تھا۔ گردن سے ہوتی ہوئی وہ میرے سینے تک آئی اور میرے سینے پر پیار کرنے لگی ۔ اب اسکے دونوں ہاتھ میری گانڈ پر تھے اور وہ میرے سینے پر مموں کے درمیں کلیوج پر اپنی زبان پھیر رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد میں نے سمیرا کی کمر ننگی کی اور اسکی قمیص اوپر اٹھا کر اسکی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ سمیرا کی نرم اور ملائم کمر پر ہاتھ پھیرنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ پھر میں نے اپنا ایک ہاتھ سمیرا کی شلوار میں ڈال دیا۔ اور اسکی گانڈ دبانے لگی۔ سمیرا کے چوتڑوں گوشت سے بھرے ہوئے تھے اور ملائی کی طرح نرم تھے۔ میں نے اپنی ایک انگلی اسکی گانڈ میں موجود گیپ میں پھیرنی شروع کی جس سے وہ پاگل ہونے لگی۔ اور اسنے فورا ہی میری قمیص اتار دی۔ اب میں بلیک کلر کے برا میں اسکے سامنے تھی اور میرے 34 سائز کے ممے اسکے ہاتھ میں تھے۔ اسنے پیچھے سے میرے برا کی ہک کھولی اور اور میرے مموں کو برا سے آزاد کر دیا۔ سمیرا نے اب دونوں ممے اپنے ہاتھوں میں پکڑے، میرے گول اور سڈول ممے سمیرا کے ہاتھ میں جیسے ہی گئے، گلابی نپل بھی سخت ہوگئے اور ان میں تناو پیدا ہوگیا۔ اب سمیرا اپنی زبان میرے نپلز پر پھیر رہی تھی اور میں مزے سے پاگل ہو رہی تھی جیسے کسی اور ہی دنیا میں آگئی ہوں میں۔ میں اپنے ہاتھ سمیرا کے بالوں میں پھیر رہی تھی اور ایک ہاتھ سے سمیرا کی کمر سہلا رہی تھی۔ سمیرا کحی میرے ایک ممے کو اپنے منہ میں لیتی تو کبھی دوسرے ممے کو۔ وہ میرے نپل اپنے منہ میں لیکر ایسے چوستی جیسے ان میں سے دودھ پی رہی ہو۔ میرا ایک نپل سمیرا کے منہ میں ہوتا تو دوسرے نپل کو وہ اپنی انگلیوں سے دباتی جس سے مجھے بہت مزہ آتا۔
ایک لمحے کے لیے سمیرا نے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا تہ میں نے دوبارہ سے سمیرا کو کسنگ کرنا شروع کردیا۔ اسکے خوب ہونٹ چوسے۔ اسکے گرم اور رس بھرے ہونٹوں سے میں لطف اندوز ہونے لگی اور ساتھ ہی سمیرا کے جسم کو اسکی قمیص سے آزاد کرنے کے بعد اسکا سرخ کلر کا برا بھی اتار دیا۔ اب سمیرا کے 36 سائز کے تنے ہوئے اور گول سڈول ممے میرے سامنے تھے۔ میں نے اپنے ممے سمیرا کے مموں سے ملائے اور آہستہ آہستہ ہم اپنے ممے ایک دوسرے کے ساتھ رگڑنے لگیں۔ ہم دونوں کے نپلز آپس میں ٹکرا رہے تھے جسکا ہمیں بہت مزہ آرہا تھا۔ اتنے میں میں نے سمیرا کے ممے اپنے ہاتھوں میں لیکر زور سے دبا دیے جسکا اسے بہت مزہ آیا۔ پھر میں نے سمیرا کے تنے ہوئے نپلز پر اپنی زبان پھیرنی شروع کی اور ساتھ ساتھ اسکے نپلز کو دانتوں سے دبانے لگی۔ دانتوں سے نپلز کاٹنے پر سمیرا کو بہت مزہ آرہا تھا اور وہ فورا لیٹ گئی اور مجھے اپنے اوپر آنے کو بولا۔ میں نے پہلے اپنی شلوار اتاری اور سمیرا کے اوپر لیٹ گئی۔ میںے نے پینٹی نہیں پہنی ہوئی تھی اور اس وقت میں فل ننگی سمیرا کے اوپر لیٹی تھی۔ میری چوت بھی بالکل بالوں سے صاف تھی کیونکہ میں نے ملتان سے چلنے سے پہلے ہی اپنی چوت کی صفائی کی تھی کیونکہ میں جانتی تھی کہ میں نے اور سمیرا نے آپس میں لیسبین سیکس کا مزہ لینا ہے۔
سمیرا کے اوپر لیٹ کر میں نے اسکے ممے چاٹنا شروع کر دیے کافی دیر مموں پر اپنی زبان پھیرنے کے بعد میں سمیرا کی ناف کی طرف آئی اور اسکے بیلی بٹن میں اپنی زبان گھمانے لگی جس سے سمیرا کی سسکیاں نکلے لگیں۔ وہ اپنے ہاتھ میرے بالوں میں پھیر رہی تھی اور سسکیاں لینے کے ساتھ ساتھ تڑپنے لگی ہوئی تھی۔ بیلی بٹن سے ہوتے ہوئے میں اور نیچے آئی اور سمیرا کی شلوار اتار کر اپنی زبان اسکی پھدی پر رکھ دی۔ سمیرا نے بھی اپنی پھدی آج ہی صاف کی تھی۔ اب میں نیچے آگئی تھی اور سمیرا کی ٹانگیں کھول کر درمیان میں لیٹ گئی اور اپنی زبان سے سمیرا کی پھدی چاٹنے لگی۔ میں مسلسل اپنی زبان سمیرا کی پھدی پر رگڑ رہی تھی۔ جب میں سمیرا کے دانے پر اپنی زبان پھرتی تو وہ مزے سے چیخیں مارنے لگتی اور اپنا سر دئیں بائیں پٹخنے لگتی۔ سمیرا نے میرا سر اپنے ہاتھ سے پکڑ کر زور سے اپنی پھدی کے اور دبایا ہوا تھا۔ میں کبھی اپنی زبان سمیرا کی پھدی کے دانے پر پھیرتی تو کبھی زبان سے پھدی کے ہونٹ چوسنا شروع کر دیتی اور کبھی زبان پھدی میں داخل کر کے اسکو زبان سے چودنے لگتی۔ سمیرا کی پھدی اسوقت آگ کی بھٹی کی طرح جل رہی تھی۔ 2 منٹ زبان پھیرنے کے بعد سمیرا کے جسم میں تناو آنے لگا اور اسنے اپنی گانڈ بستر سے اوپر اٹھا لی اور میرا سر اور بھی زور سے اپنی پھدی پر رکھ کر سسکیاں لینے لگی۔ میں سمجھ گئی کہ سمیرا اپنا پانی چھوڑنے لگی ہے میں نے سمیرا کے دانے پر زبان پھیرنا شروع کی اور فورا ہی سمیرا کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔ اسکا گرم گرم اور نمکین پانی بیڈ شیٹ کو گیلا کر چکا تھا اور کچھ پانی میری زبان سے بھی لگا ۔ پانی زبان پر لگتے ہی میں سمیرا کے اوپر لیٹ گئی اور اپنی زبان سمیرا کے منہ میں داخل کر دی جس کو اسنے چوسنا شروع کر دیا۔ سمیرا کے چہرے پر اب اطمینان تھا اور اب چوت چٹوانے کی باری میری تھی۔ میں بیڈ پر ٹانگیں کھول کر لیٹ گئی اور سمیرا میرے اوپر 69 پوزیشن بنا کر لیٹ گئی۔ اب اسکی چوت میرے منہ کے اوپر اور اسکا منہ میری چوت کے اوپر تھا۔ ہم دونوں نے ایکدوسرے کی چوت پر اپنی اپنی زبان رکھی اور چاٹنا شروع کر دیا۔ سمیرا بہت ہی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ میری چوت چاٹ رہی تھی۔ مجھے پہلے ہی اپنی چوت میں گیلا پن محسوس ہورہا تھا۔ سمیرا نے میری ٹانگیں کھولی ہوئی تھی اور اپنی ایک انگلی میری چوت میں داخل کر کے مجھے چودنے لگی تو ساتھ ہی اپنی زبان سے میرے دانے کو بھی چوسنے لگی۔ میں نے اپنی ایک انگلی سمیرا کی گانڈ میں داخل کر دی اور اسکی گانڈ کی چدائی کرنے لگی اور زبان سے سمیرا کی پھدی چاٹنے لگی۔ ہم کوئی 3 سے 4 منٹ تک ایسے ہی ایک دوسرے کی چوت کو چاٹنے میں مصروف رہی٫ ہم دونوں کی سیکس سے بھرپور آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں اور ہم بلا خوف سیکسی آوازیں نکال رہی تھی کیونکہ پورے گھر میں سمیرا اور میرے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔
کچھ دیر مزید ایک دوسرے کی چوت چاٹنے کے بعد ہم دونوں کی چوت نے اپنا اپنا پانی چھوڑ دیا۔ میری چوت کے پانی کو سمیرا نے اپنی زبان کے ذریعے منہ میں داخل کر لیا اور سمیرا کا بھی کچھ پانی میرے منہ میں گیا تو کچھ پانی میرے سینے پر بہ گیا۔ فارغ ہونے کے بعد ہم نے دوبارہ ایکدوسرے کو کسنگ کی اور اپنی اپنی چوت کے پانی کا ذائقہ ایکدوسرے کے منہ سے محسوس کیا۔ کچھ دیر ہم دونوں ایسے ہی لیٹی رہیں کہ میرے جسم نے پھر گرم ہونا شروع کر دیا۔ سمیرا دو بار فارغ ہو چکی تھی جبکہ میری چوت ابھی بھی گرم تھی۔ میرے جسم کی گرمی کو محسوس کرتے ہوئے سمیرا بیڈ سے اتری اور اپنی الماری کھول کر کپڑوں کے نیچے سے کچھ نکالنے لگی۔ میں نے پوچھا کیا کر رہی ہو تو وہ بولی کہ تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔ اس نے کپڑوں کے نیچے سے ایک چابی نکالی اور اسی الماری میں موجود دراز کھولنے لگی۔ دراز کھول کر اسنے جو چیز نکالی وہ دیکھ کر میری آنکھوں میں سیکس کی ہوس اور بھی جاگ اٹھی۔ جی ہاں وہ کچھ اور نہیں بلکہ ایک 12 انچ کا ڈلڈو تھا۔ جن دوستوں کو ڈلڈو کے بارے میں نہیں پتا انہیں بتاتی چلوں کہ یہ ایک مصنوعی لن ہوتا ہے ربڑ کا بنا ہوا جسکو آپ نے عموما پورن مویز میں بھی دیکھا ہوگا۔ سمیرا اس مصنوعی لن یعنی کے ڈلڈو کو میری آنکھوں کے سامنے لا کر لہرانے لگی تو میری پھدی اور بھی بیتاب ہونے لگی اس ڈلڈو کو اپنی اندر سمانے کے لیے۔ میں نے سمیرا سے پوچھا کہ یہ کہاں سے لیا تم نے تو اسنے بتایا کے ایک ویب سائٹ ہے چائنہ کی جس کے ذریعے آپ پوری دنیا میں کہیں بھی کوئی سا سامان منگوا سکتے ہو۔ اس ویب سائٹ پر سیکس سے متعلق بھی کافی چیزیں موجود تھیں تو سمیرا نے یہ مصنوعی لن اسی ویب سائٹ سے 10 ڈالر یعنی کے 1000 روپے میں منگوایا تھا۔
بیڈ پر آکر پہلے ہم دونوں نے تھوڑی سی کسنگ کی اور اسکے بعد سمیرا نے اس لن کی ایک سائڈ اپنے منہ میں لے کر اسکو چوسنا شروع کر دیا۔ اس 12 انچ کے لن کی خاص بات یہ تھی کے یہ دونوں سائیڈ سے لن کی ٹوپی والی شکل کا ہی تھا۔ یعنی کہ 12 انچ کے ربڑ کا یہ ٹکرا دونوں سائیڈ سے ایسا بنا ہوا تھا جیسا کے مرد کے لن کی ٹوپی ہوتی ہے لہذا اسکو دو لڑکیاں ایک ہی وقت میں اپنی پھدی میں لے سکتی ہیں۔ سمیرا نے لن کی ٹوپی چوسنے کے بعد ہوی سائیڈ میری پھدی پر مسلنا شروع کر دی جس سے مجھے مزہ آنے لگا۔ اس لن کا مزہ رضوان یا عمران کے لن جیسا تو نہیں تھا مگر پھر بھی کچھ نا ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے۔ اور اس وقت یہ مصنوعی لن مجھے بہت مزہ دے رہا تھا۔ میں نے اپنی ٹانگیں کھولیں اور کہنی بیڈ پر لگا کر پیچھے کی طرف لیٹ گئی۔ کچھ دیر میری پھدی پر مصنوعی لن کی ٹوپی پھرنے کے بعد سمیرا نے لن کی ٹوپی میری پھدی میں داخل کر دی۔ ٹوپی بہت ہی آرام سے میری پھدی میں داخل ہوگئی اور میں نے سمیرا کا ہاتھ پکڑ کر ایک ہی جھٹکے میں ڈلڈو اپنی پھدی میں داخل کر دیا۔ اس ڈلڈو کا تقریبا 5 یا 6 انچ تک کا حصہ میری پھدی میں تھا اور اب سمیرا اسکو اندر باہر کر کے میری پھدی کی چدائی کر رہی تھی۔ جس سے مجھے بہت مزہ آرہا تھا۔ آج کافی دنوں کے بعد میرے پھدی کو لن ملا تھا۔ آہستہ آہستہ سمیرا نے لن اور زیادہ میری پھدی میں گھسانا شروع کیا اور مجھے درد محسوس ہونے لگا۔ سمیرا تقریبا 8 یا 9 انچ تک لن میری پھدی میں گھسا چکی تھی اور اب مزید اندر کروانا میرے لیے ممکن نہیں رہا تھا۔ میں درد سے چیخنے لگی مگر سمیرا نے میری پھدی کی چدائی جاری رکھی۔ کافی دیر چدائی کے بعد سمیرا نے لن میری پھدی سے تھورا باہر نکالا اور اپنی پھدی میری پھدی کے قریب رکھ کے وہ بھی کہنی کے بل لیٹ گئی اور لن کی دوسری سائیڈ کی ٹوپی اپنی پھدی میں داخل کر لی۔ اب یہ مصنوعی لن ہم دونوں کی پھدی میں تھا تقریبا 5 انچ میری پھدی میں تو 5 انچ ہی سمیرا کی پھدی میں تھا تھوڑا سا باہر ہی تھا جسکو ہم کوشش کے باوجود بھی اپنی پھدی میں داخل نہیں کر سکیں کیونکہ اس حالت میں اپنی پھدی آپس میں ملانا مشکل تھا۔ اب حالت یہ تھی کہ ہم دونوں کی پھدی کا رخ ایکدوسرے کی طرف تھا اور ہم دونوں کی پھدی میں لن کی ایک ایک ٹوپی تھی ۔ ہم نے اپنی گانڈ کو آگے پیچھے ہلا کر خود سے ہی اپنی چودائی جاری رکھی۔ ہماری ٹانگیں ایکدوسرے کو چھو رہی تھیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ ہم دونوں کا جسم ہی گرمی سے پگھل ہرا تھا
کچھ دیر تک ایسے ہی لن سے چدائی کے بعد ہم دونوں کی سپیڈ میں اضافہ ہوگیا اور ہماری چیخوں نے تو جیسے پورے کمرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان چیخوں میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا اور ہم دونوں کی سپیڈ میں بھی اضافہ ہورہا تھا اور ہم دونوں کی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ لن اپنی پھدی میں لیا جائے۔ کچھ ہی دیر بعد میری پھدی نے پانی چھوڑ دیا اور ساتھ ہی سمیرا بھی فارغ ہوگئی۔ فارغ ہونے کے بعد میں کچھ دیر سکون سے لیٹی رہی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ پھر سمیرا نے لن پھدی سے نکالا اور وہ سائیڈ جو اسکی پھدی میں تھی میرے منہ میں ڈال دی اور جو لن کی جو سائڈ میری پھدی میں تحھیوہ اپنے منہ میں لیکر اسے چوسنے لگی۔ ہم دونوں نے ایکدوسرے کی پھدی کا پانی لن سےچوس کر صاف کر لیا۔ کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد سمیرا کچن میں گئی اور وہاں سے انگور لے آئی اور ساتھ میں سیب کا تازہ جوس نکال لئی۔ جوس پی کر اور انگور کھا کر مجھے کچھ طاقت ملی اور جسم میں جان آئی۔ سمیرا ایک راونڈ اور لگانا چاہتی تھی مگر میں مزید اسکا ساتھ نہ دے سکی کیونکہ 8 گھنٹے کا سفر اور اسکے بعد یہ سیکس مجھے تھکانے کے لیے کافی تھا۔ میں نے اپنے کپڑے پہنے اور بیڈ پر لیٹ گئی کچھ ہی دیر میں میری آنکھ لگ گئی۔ سمیرا کب سوئی مجھے کچھ علم نہیں۔
اگلے دن دوپہر کے 2 بجے سمیرا نے مجھے اٹھایا اور فریش ہونے کا کہا۔ میں فریش ہوکر آئی تو سمیرا ناشتہ بنا چکی تھی گرم گرم پراٹھے ساتھ آملیٹ اور چائے کا ناشتہ کر کے ہم دونوں پھر گاڑی نکال کر اسلام آباد گھومنے نکل گئیں۔ شکر ہے کہ آج راستے کھلے تھے، 14 اگست کا دن تھا اسلام آباد کی سڑکیں پاکستان کے جھنڈوں سے سجی ہوئی تھیں۔ ہم نے سینٹورس مال سے خوب ونڈو شاپنگ کی۔ کچھ کام کی چیزیں بھی خریدیں سمیرا نے مگر میں نے ونڈو شاپنگ پر ہی گزارا کیا۔ 3، 4 گھنٹے سینٹورس مال پر پھرنے کے بعد جب سمیرا مجھے مونومنٹ لیجانے لگی تو راستے میں پھر سے کنٹینر موجود تھے۔ وہاں موجود پولیس والوں کے پاس سمیرا نے گاڑی روکی اور پولیس والے کو اپنی طرف متوجہ کیا، جب پولیس والا گاڑی کے پاس آیا تو سمیرا نے پوچھا کہ کون کونسے راستے کھلے ہیں تو پولیس والے نے بتایا کہ کچھ ہی راستے کھلے ہیں آپ فورا سے پہلے گھر کو جائیں کیونکہ وہ راستے بھی بہت جلد بند ہوجائیں گے پشاور سے تحریک انصاف کی ریلی آنے والی ہے لہذا حکومت نے تمام راستے بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ سن کر سمیرا نے فورا گاڑی گھمائی اور سیدھی گھر کے سامنے جا کے روکی۔ گھر پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہم نے اپنی کی ہوئی شاپنگ دوبارہ سے دیکھی جو کہ اصل میں سمیرا نے ہی کی تھی ساری۔ اور اسکے بعد سمیرا نے ایک سوٹ میرے حوالے کر دیا کہ یہ میں نے تمہارے لیے خریدا ہے۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور وہ سوٹ رکھ دیا۔ اسکے بعد سمیرا نیوز چینل لگا کر بیٹھ گئی اور تحریکِ انصاف کے ہونے والے دھرنے کی خبریں سننے لگی۔ اسکو سیاست سے لگاو بھی ہے اور سمیرا کا بھائی تحریکِ انصاف کی سٹوڈنٹ تنظیم آئی ایس ایف کا سرگرم رکن بھی ہے۔ میرے لیے یہ کام انتہائی بورنگ تھا لہذا میں ایک ناول اٹھا کر پڑھنے لگ گئی۔ رات ہونے پر ہم نے باہر سے پیزا منگوایا ، اور پیزا کھا کر سوگئے
اگلے دن 15 اگست کی دوپہر ایک بجے جب میری آنکھ کھلی تو سمیرا پھر سے نیوز چینل لگا کر بیٹھی تھی اور خبریں سننے میں مصروف تھی۔ گوجرانوالہ میں عمران خان کے کنٹینر پر پتھراو ہوا تھا اور اسکے بارے میں ٹالک شوز میں کافی بحث ہو رہی تھی سمیرا بھی غصے میں بیٹھی سب سن رہی تھی اور مسلم لیگ ن کو گالیاں دے رہی تھی۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت ہنسی آئی تو سمیرا کو اور بھی غصہ آگیا کہ عمران خان پر حملہ ہوگیا ہے اور تم ہنس رہی ہو۔ میں نے کہا سب سیاستدان ایک جیسے ہوتے ہیں اپنے اپنے مفادات کے لیے عوام کو استعمال کرتے ہیں۔ اس پر سمیرا نے مجھے ایک بڑا سارا لیکچر دیا اور تحریک انصاف کی خوبیاں گنوانے لگی جسکو میں نے چپ چاپ سننے میں ہی عافیت جانی کیونکہ مجھے سیاست سے لگاو بھی نہیں اور میں بحث بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسی کام میں رات کے 9 بچ چکے تھے۔ اور خبر آئی کہ عمران خان کی ریلی پنڈی کے قریب پہنچنے والی ہے۔ یہ سن کر سمیرا نے مجھے تیار ہونے کا بولا خود ایک الماری سے منرل واٹربوتلیں نکالی کوئی 50 کے قریب پانی کی بوتلیں تھی سمیرا نے میرے ساتھ مل کر یہ بوتلیں اپنی گاڑی میں رکھیں اور ہم دونوں باہر نکل گئے۔ باہر بارش بھی بہت تیز تھی کچھ ہی دیر بعد مجھے پتا لگا کہ ہم لوگ عمران خان کی ریلی کو ویلکم کرنے جا رہے ہیں۔ یہ جان کر دل ہی دل میں نے سمیرا کو گالیاں بھی دیں کہ یہ کس کام پر لگا دیا ہے مجھے۔ لیکن کیا کرتی مجبوری تھی اسکو کہیں گھومنے پھرنے کا بھی نہیں کہ سکتی تھی کیونکہ ہر جگہ کنٹینر لگے ہوئے تھے۔ لہذا یہی بہتر تھا کہ اسی سرگرمی میں ٹائم گزارا جائے۔ جہاں سے ریلی نے اسلام آباد میں داخل ہونا تھا سمیرا نے گاڑی وہاں جا کر سائیڈ پر پارک کی ، وہاں پر اور بھی لوگ جمع تھے، بڑی تعداد میں پٹھان بھی موجود تھے جو شاید پچھلے روز پشاور سے آئے تھے۔ ہر طرف تحریک انصاف کے پرچم دکھائی دے رہے تھے بہت ساری فیمیلیز بھی موجود تھیں۔ یہ دیکھ کر مجھے کافی حیرانی ہوئی کہ اتنی بڑی تعداد میں فیمیلیز ریلی کو ویلکم کرنے آئیں تھی۔ ان میں لڑکیاں، بڑی عمر کی عورتیں، مرد بچے ، بوڑھے سبھی شامل تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے لگا کہ تحریک انصاف پنڈی اور اسلام آباد میں بہت پسند کی جاتی ہے۔ ہم بھی انہی لوگوں کے ساتھ نکل کر روڈ کے ایک سائیڈ پر کھڑی ہوگئیں، بارش تیز تھی سمیرا نے گاڑی سے چھتری بھی نکالی اور ہم دونوں ایک چھتری کے نیچے کھڑی رہیں۔ اتنے میں دور سے کافی زیادہ گاڑیوں کی لائیٹیں نظر آنے لگیں تو روڈ کے سائیڈ پر کھڑے مجمع میں خوشی کی لہر دوڈ گئی جیسے انکا اپنا کوئی آرہا ہو۔ جب ریلی ہمارے قریب پہنچی تو اکثر گاڑیوں میں تحریکِ انصاف کے پارٹی سانگز اونچی آواز میں لگے ہوئے تھے، گاڑیوں کی رفتار بہت سلو تھی، ہر گاڑی پر پارٹی پرچم بھی لگے ہوئے تھے اور لڑکے لڑکیاں گاڑیوں کے دروازوں پر شیشہ کھول کر باہر نکل کر بیٹھے تھے اور اپنی پارٹی کا پرچم لہرا کر وکٹری کا نشان بنا رہے تھے۔ سائیڈ پر کھڑی خواتین اور مرد حضرات بھی وکٹری کا نشان بنا کر آنے والوں کو ویلکم کر رہے تھے۔ اکثر گاڑیاں جن میں ڈیک لگے ہوئے تھے کچھ دیر کے لیے رکتیں اور سائیڈ پر کھڑے لڑکے گاڑی کے آگے آکر ڈانس کرتے اور کچھ دیر بعد وہ گاڑی آگے نکل جاتی تو پیچھے سے آنے والی گاڑی کو روک کر اسی طرح ڈانس کیا جاتا۔ اب مجھے بھی یہ دیکھ کر اچھا لگنے لگا میں بھی اس میں شامل ہوگئی اور آنے والوں کو وکٹری کا نشان بنا کر ویلکم کرنے لگی حالانکہ مجھے تحریکِ انصاف کے آنے کی کوئی خاص خوشی نہیں تھی مگر یہ ماحول انجوائے کرنے والا تھا۔ ساتھ ساتھ جو بوتلیں پانی کی لائی تھی سمیرا وہ بھی کسی کسی گاڑی میں پکڑا دیتی اور لوگ شکریہ کے ساتھ پانی لیکر آگے چلے جاتے۔ باقی فیمیلیز جو وہاں ویلکم کرنے کے لیے موجود تھیں وہ بھی اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ لیکر آئے تھے، کسی کے پاس پیپسی کی بوتلیں تھی، کسی کے پاس کولڈ سینڈویچ، کوئی برگر، کوئی بریڈ کوئی کچھ تو کوئی کچھ لیکر آیا ہوا تھا اور آنے والوں کو وہ تھما دیا جاتا۔ ہم تقریبا 4 گھنٹے وہاں کھڑے رہے۔ میں نے خوب انجوائے کیا، پارٹی نغمے سن کر بھی اچھا لگتا اور اس پر لڑکوں کا ڈانس ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سب لوگ ایکدوسرے کو جانتے ہیں اور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیاست میں لگاو نہ ہونے کے با وجود میں یہ ضرور کہوں گی کہ مجھے یہ سب دیکھ کر اچھا لگا۔ لوگوں کی نظروں میں ایکدوسرے کے لیے احترام اور محبت کے جذبات تھے۔ اور میرے لیے بہت حیران کن بات تھی کہ لوگ کسطرح اپنے گھروں سے فیمیلیز کے ساتھ ویلکم کرنے نکلے ہیں اور ساتھ میں آنے والوں کے لیے کھانے پینے کا سامان بھی لائے ہیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ لوگ مسلسل 35 سے 40 گھنٹوں سے سفر میں ہیں۔ 4 گھنٹوں کے دوران کوئی 600 سے 800 ک قریب کاریں گزریں تھیں وہاں سے اور بیچ میں کچھ بسیں علامہ طاہر القادری صاحب کی جماعت عوامی تحریک کی بھی تھیں۔ رات کے 1 بچ چکے تھے پانی کی بوتلیں بھی ہم تقسیم کر چکے تھے اور بارش بھی کافی کم ہوگئی تھی۔ اب ہم دونوں گاڑی میں بیٹھے اور گھر کی طرف چل دیے۔ رات کے 2 بجے گھر پہنچے اور میں جاتے ہی سوگئی جب کہ سمیرا ٹی وی لگا کر بیٹھ گئی۔
صبح آنکھ کھلی تو میں فریش ہونے کے لیے نہانے چلے گئی۔ نہا کر نکلی تو سمیرا بھی نیند پوری کرکے اٹھ چکی تھی اور وہ بھی فریش ہونے کے لیے چلی گئی۔ جب وہ نہا کر نکلی تو اسنے اپنا جسم تولیے سے صاف نہیں کیا تھا ویسے ہی ایک باریک قمیص پہن لی تھی اور جسم گیلا ہونے کی وجہ سے قمیص اسکے جسم سے چپک گئی تھی اور اسکی باریک قمیص کے نیچے اسکے ممے واضح نظر آرہے تھے سمیرا نے برا نہیں پہنا تھا۔ یہ دیکھ کر میرا ایک بر پھر دل کیا سیکس کرنے کو۔ سمیرا نے مجھ سے پوچھا کہ کیا کھاو گی تو میں نے کہا تمہیں کھاوں گی اور یہ کہ کر میں اسکی طرف بڑھی اسکے بیڈ پر گرایا اور خود اسکے اوپر لیٹ کر اسکو کسنگ کرنے لگی۔ اس نے بھی میرا بھرپور ساتھ دیا اور میرے ہونٹ چوسنے لگی۔ کچھ دیر کسنگ کرنے کے بعد میں نے اپنے ہاتھوں سے سمیرا کے ممے دبانا شروع کر دیے جو قمیص میں سے نظر آرہے تھے اور اسکے نپلز کا تناو بھی قمیص سے ہی واضح تھا۔ میں نے سمیرا کی قمیص اتارے بغیر ہی اسکے ممے اپنے منہ میں لے لیے اور نپل کاٹنے لگی ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے دوسرا مما بھی دبانے لگی۔ وہ ابھی ابھی نہا کر نکلی تھی مگر اسکا جسم مکمل گرم ہو چکا تھا۔ اسکے جسم کی گرمی مجھے بھی محسوس ہورہی تھی کچھ دیر اسکے ممے قمیص کے اوپر سے ہی چوسنے کے بعد سمیرا نے مجھے اپنے اوپر سے ہٹا کر بیڈپر لٹایا اور خود بھی میرے اور آکر لیٹ گئی اور میری شرٹ کے بٹن کھول دی۔ میں نے نہانے کے بعد شرٹ اور ٹراوزر پہنا تھا،، میری شرٹ کے بٹن کھولنے کے بعد اسنے میرے مموں کو برئیزیر کی قید سے بھی آزاد کیا اور میرے ممے اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔ وہ بہت بیتابی کے ساتھ میرے ممے چوس رہی تھی اور اپنے دانتوں سے کاٹ بھی رہی تھی۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی بچہ بہت بیتابی سے میرے پستانوں سے دودھ پی کر اپنی پیاس بجھانا چاہتا ہو۔ میرے مموں سے دل بھرا تو ایک بار پھر اس نے میرے ہونٹوں کا رس پینا شروع کر دیا۔ ہماری زبانیں آپس میں ٹکرا رہی تھی کبھی ہم ایکدوسرے کی زبان چوستے تو کبھی ہونٹ چوستے۔ اتنے میں سمیرا نے خود ہی اپنی قمیص اور شلوار اتاری اور میں نے بھِی اپنی شرٹ اور ٹراوزر اتار دیا۔ اور سمیرا کی الماری سے مصنوعی لن نکال لائی جو اس دن سیکس کے بعد سمیرا نے لاک میں نہیں رکھا تھا۔ مصنوعی لن میں نے سمیرا کو دیا جو اسکو منہ میں لیکر گیلا کرنے میں مصروف ہوگئی اور میں خود سمیرا کی ٹانگیں سائیڈ پر پھیلا کر اسکی پھدی چاٹنے لگی۔ کافی دیر پھدی چاٹنے کے بعد سمیرا نے لن مجھے پکڑایا اور میری ٹانگیں اٹھا کر میری چوت میں اپنی زبان گھسا دی۔ میں نے لن منہ میں لیا اور اپنی چوت سمیرا سے چٹوانے میں مصروف ہوگئی۔ مزے کی شدت سے میرے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھی٫ سمیرا کی زبان میری چوت کے لبوں کو کھول کر اندر کی سیر کر رہی تھی اور اسکا ایک ہاتھ میرے مموں کہ مسل رہا تھا اور میرے منہ میں لن بھی تھا۔ سمیرا کبھی میری چوت کو اپنی زبان سے چاٹتی تو کبھی اپنی زبان میری گانڈ پر رکھ دیتی۔ پھر سمیرا نے میری ٹانگیں اور کھولیں اور میری گانڈ پر تھوک پھینک کر گانڈ کے اوپر زبان سے تھوک مسلنےلگی۔ کچھ دیر گانڈ چاٹنے کے بعد سمیرا نے اپنی بڑی انگلی میری گانڈ میں داخل کر دی۔ جس سے میری ہلکی سے چیخ بھی نکلی مگر مزہ بھی بہت آرہا تھا۔ سمیرا نے مجھے کہا کہ لن کے اوپر تھوک لگا کر اسکو چاٹوں اور پھر لن سمیرا کو دے دوں۔ میں نے ایسے ہی کیا، سمیرا نے گیلے لن کا ٹوپا میری گانڈ پر رکھا اور اندر گھسانے کی کوشش کرنے لگی۔ گانڈ کا سوراخ چونکہ تنگ ہوتا ہے اور یہ لن بھی عام لن سے تھوڑا موٹا تھا اسلیے گانڈ میں ڈالنے میں مشکل ہو رہی تھی، میں نے اپنی ٹانگیں ہوا میں اٹھا کر پھیلا لیں اور سمیرا نے بھی تھوڑی مزید کوشش کی تو لن میری گانڈ میں چلا گیا۔ اب سمیرا لیٹ گئی اور اسکا منہ میری گانڈ کے ساتھ تھا اور لن دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر وہ میری گانڈ مار رہی تھی۔ میں مزے کی شدت سے سسکیاں نکال رہی تھی۔ کچھ دیر ایسے ہی چدائی کرنے بعد سمیرا اٹھی اور میری ٹانگیں اٹھا کر میرے سینے کے ساتھ لگا دیں اب لن میری گانڈ میں تھا اور میرے گھٹنے میرے سینے کے ساتحھ لگ ہوئے تھے، ۔ قریبا 7 انچ لن گانڈ سے باہر تھا اور اس پوزیشن میں لن کے باہر والے حصے کا رخ چھت کی طرف تھا۔ سمیرا نے میری طرف اپنی پیٹھ کی اور میری فولڈ ہوئی ٹانگوں پر اپنا ہلکا وزن ڈالتے ہوئے لن کا باقی حصہ اپنی پھدی میں ڈالنے لگی۔ اب پوزیسشن یہ تھی کہ میری گانڈ میں تقریبا 4 انچ لن تھا اور میرے گھٹنے میرے سینے سے جڑے ہوئے تھے، میرے اوپر سمیرا اپنی پیٹھ میری طرف کر کے بیٹھی تھی اور اسکی پھدی میں باقی کا لن تھا۔ سمیرا نے مجھے اپنی گانڈ سخت ٹائٹ کرنے کو کہا، میں نے لن کو مضبوطی کے ساتھ گانڈ میں پھنسا لیا تو سمیرا نے میرے اوپر آہستہ آہستہ اچھلنا شروع کیا، اب لن سمیرا کی پھدی میں آسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا جس سے سمیرا کی سسکیاں بھی نکل رہی تھی۔ سمیرا خود ہی اپنی چدائی کرنے میں مصروف تھی۔ اس پوزیشن میں مجھے کافی تکلیف ہوری تھی کیونکہ ایک تو لن میری گانڈ میں تھا اور پھر سمیرا کا وزن میری ٹانگوں پر تھا لہذا کچھ ہی دیر بعد میں نے سمیرا کو اٹھنے کو کہا۔ وہ اٹھ گئی تو میں نے اسکو بولا ہ صوفے پر بیٹھ جائے۔ وہ صوفے پر بیٹھی تو میں نے اسکی ٹانگیں زیادہ نہیں کھولیں اور ایسے لی لن اسکی چوت میں گھسا دیا اور اندر باہر کرنے لگی۔ سمیرا بہت مزے سے لن سے لطف اندوز ہورہی تھی اور مجھے کہ رہی تھی اور تیز چودو مجھے اف ف ف ف ف فائزہ بہت مزہ آرہا ہے پورا لن ڈال دو میری پھدی میں میری پھدی پھاڑ دو آج۔ 12 انچ کا لن وہ پورا تہ نہیں لے سکتی تھی مگر میں نے 8 انچ تک لن اسکی پھدی میں گھسا دیا اور اندر باہر کرتی رہی۔ پھر اسکی پھدی سے لن کا کچھ حصہ باہر نکالا اور خود بھی صوفے پر ٹانگیں رکھ کر گھٹنوں کے بل سمیرا کی گود میں بیٹھ گئی۔ گود میں بیٹھ کر میں نے لن کے دوسرے سائیڈ والی ٹوپی اپنی پھدی پر ٹکائی اور ایک ہی جھٹکے میں جتنا بھی لن سمیرا کی پھدی سے باہر تھا وہ اپی پھدی میں لے لیا۔ اب میں سمیرا کی گود میں لن کے اوپر اچھل اچھل کر لن کو اندر باہر کر رہی تھی اور سمیرا بھِی نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا کر لن کے گھسے اپنی پھدی میں مار رہی تھی۔ سمیرا چونکہ بیٹھی ہوئی تھی اس لیے اسکی سپیڈ سلو تھی اور میں اسکی گود میں تھی اور میں زیادہ آسانی کے ساتھ لن اندر باہر کر سکتی تھی اس لیے میری سپیڈ کافی تیز تھی۔
پورے کمرے میں سمیرا اور میری سیکس سے بھرپور آوازیں گونج رہی تھیں۔ اف ف ف ف ف ۔۔۔۔ آ آ آ آ آ آ ۔۔۔ ام م م م م م م م آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔ ایسی بے ہنگم سی آوازوں سے پورا کمرہ ہم نے سر پر اٹھا رکھا تھا۔ 5 منٹ کی اس چدائی کے بعد میرا جسم تھوڑا سخت ہونے لگا اور مجھے محسوس ہوا کہ میری پھدی پانی چھوڑ دے گی تو میں نے اپنی سپیڈ میں اور اضافہ کر دیا اور چند جھٹکوں کے بعد ہی میری پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔ گرم گرم پانی کچھ تو شمیرا کے پیٹ پر گرا اور کچھ اسکی پھدی پر گرا جس سے اسکی گرمی میں بھی اضافہ ہوا اور اس نے ہاتھ سے لن پکڑ کر خود ہی اپنی پھدی کی چدائی شروع کر دی۔ میں اب سائیڈ پر ہوکر سمیرا کے ممے چوس رہی تھی اور ایک ہاتھ سے سمیرا کی چوت کا دانہ سہلا رہی تھی جبکہ سمیرا ڈلڈو سے اپنی چوت کی چدائی کر رہی تھی۔ سمیرا کی چیخوں میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ اسکے 36 سائز کے ممے پوری طرح میں نے ہاتھوں سے دبا رکھے تھے اور اپنے منہ میں لینے کی کوشش کر رہی تھی جس سے سمیرا کی سسکیاں بلند ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔ آخر کار سمیرا کی پھدی نے بھی ایک دم سے پانی چھوڑ دیا، جو کسی فوارے کی طرح صوفے اور کارپٹ پر پھیل گیا اور کچھ میرے ہاتھ پر بھی لگا جس سے میں سمیرا کی چوت سہلا رہی تھی۔ پانی نکلے کے کچھ دیر بعد تک سمیرا اسی طرح لن کو اندر باہر کرتی رہی اور پھر لن نکال کر میرے منہ میں ڈال دیا جسکو میں نے اچھی طرح چوس لیا۔ اور اپنا ہاتھ سمیرا کے منہ میں ڈال دیا۔ سمیرا نے میرے ہاتھ سے اپنی چوت کا پانی اچھی طرح صاف کیا اور اسکے بعد اپنے اپنے کپڑے پہن کر ہم نے ناشتہ کیا۔ کچھ دیر ٹی وی دیکھا پھر نہا کر دوبارہ سے کپڑے چینج کیے اور سمیرا مجھے لیکے تحریکِ انصاف کے جسلے کی طرف چل پڑی۔

اپنی حقیقی خالہ کو گاوں میں چودا


سب دوستوں کو سلام، میرا نام عابد حیات ہے اور میں کوہاٹ کا رہنے والا ہوں۔ پہلی بار اپنی کہانی یہاں شائع کر رہا ہوں اُمید ہے سب کو پسند آئی گی۔ مجھے یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ یہ ایک سچھی کہانی ہے کیونکہ میری کہانی سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کہانی میں کتنی حققیقت ہے۔
میں ایک مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے والد صاحب ایک سکول ہیڈماسٹر ہیں۔اور میری ماں ایک سیدھی سادھی گھریلوں عورت۔ ماشا اللہ ہماری فیملی ایک خوشخال فیملی ہے۔ ہم تین بہن بھائی ہیں۔یعنی میں اور میری دو بہن سمینہ اور سعدیہ۔ یہ کہانی اُس وقت کی ہے جب میں نے آٹھویں جماعت کاکے سہماہی امتخان دینے کے بعد امی سے ماموں کے گھر جانے کی فرمائش کی، میں اور میری بہن سمینہ عموما چھٹیوں میں ماموں کے گھر جاتے تھے۔ اس بار بھی ہم کو جانے کی فوراََ اجازت مل گئی۔میں یہ بھی بتاتا چلوں کے میری ننیال بنوں میں رہتی ہے۔ ہم اتوار کے دن کوہاٹ سے بنوں روانہ ہو گئے جو کہ تقریباَ 2 گھنٹے کا سفر ہے۔ ہمارے ماموں کا گھر بنوں میں ایک پسماندہ گاوں میں ہے۔ میرے ماموں کا خاندان کوئی اتنا بڑا خاندان نہیں ہے۔ میرے ایک اکلوتے ماموں، ایک نیک دل اور ہنس مک ممانی، دو کزن عدنان اور عمر اور ایک کزن شمائلہ۔ اس کے علاوہ جو ہم سب کی جان ہے وہ میری پیاری خالہ رخشندہ۔ ہمارے ماموں کا گھر بہت بڑا پر لوگ بہت کم اس لئے گھر بہت ہی بڑا لگتا ہے۔ ہم جب پہنچے تو سب کے چہروں پر خوشی کھل گئی۔کیونکہ ہم تقریبا 2 سال بعد انے موموں کے گھر آئے تھے۔ خالہ اور ممانی تو ہم دونوں پر قربان ہوئے جا رہی تھیں۔
شام کو ماموں نے کھانے کا خوب اہتمام کیا ہوا تھا اور ایک عرصے بعد گاوں کے کھانے اور دیسی گھی کھانے سے برسوں کی بھوک مٹ گئ۔ یہ دسمبر کی سرد راتیں تھیں اس لئے ہم چٹائی پر ہی کمبل اُڑھ کر دیر تک گپ شپ لگاتے رہے۔ پھر باری باری سب کو نیند آنے لگی۔ اور سمینہ تو سب سے پہلے ہی شمائلہ کے ساتھ اُس کے کمرے میں سو چکی تھی ۔ ممانی نے مجھ سے کہا کہ میں نے تمہارے لئے عدنان اور عمر کے ساتھ بیڈ لگایا ہے پر میں نے کہا کہ ممانی آپ کو نہیں پتہ کہ میں آنٹی کے علاوہ کہیں اور نہیں سوتا ۔ یہ سن کر خالہ مسکرائی کہ اُونٹ جتنا قد ہو گیا ہے پر اب بھی وہی بچپنا نہیں گیا۔ خالہ نےممانی سے کہا کہ عابد میرے ساتھ سوجائے کوئی بات نہیں۔ میں جب خالہ کے روم میں گیا تو وہا ں صرف ایک ہی ڈبل بیڈ تھا جس پر خالہ نے دو رضائیاں لگا دیں۔ اور میں دیوار کی طرف جس کی ایک کھڑکی ماموں کے کمرے کی طرف کھلتی تھی سو گیا اور خالہ بیڈ کے دوسرے کونے پر سو گئیں اور دس منٹ میں خراتے بھرنے لگی۔ پر مجھے نئی جگہ پر نیند نہیں آرہی تھی۔ اس لئے بار بار کروٹیں بدل رہا تھا۔ اس اثنا میں مجھے ماموں اور ممانی کی ہلکی ہلکی باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ کیونکہ ماموں اور ممانی کا بیڈ بلکل کھڑکی کے ساتھ تھا اس لئے جب میں ذرا کان کھڑکی کے ساتھ لگایا تو مجھے ممانی کی تیز تیز سانسوں کی آوازیں سنائی دینے لگٰیں۔ میرے دل میں اشتیاق بڑھ گیا کہ ممانی کی طعبیت تو خراب نہیں ہوئی ۔ اس لئے کھڑکی کے ایک سوراخ سے جب آنکھ لگائی تو سامنے کا منظر دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔ہلکی ہلکی روشنی میں ممانی کے اُوپر ماموں لگا ہوا اُوپر نیچے ہو رہا تھا اور دونوں بلکل کپڑوں سے عاری تھے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے میں ایک عجیب کفیت پیدا ہو گئی اور پہلی بار مجھے اپنا لوڑا کھڑا ہوا محسوس ہوا اور مذید سخت ہوتا جا رہا تھا۔ کیونکہ ماموں نے بھی پنا لوڑا اندر کیا ہوا تھا اور بہت تیزی سے آگے پیچےہو رہا تھا اور میرا ہاتھ بھی خود بخود اپنے لوڑے پر چلا گیا۔ اتنے میں ماموں اور ممانی کی خرکتیں آہستہ ہو گئیں اور ممانی اپنے کپڑے پہن کر سو گئیں۔ میرے دماغ میں ایک آندھی چل رہی تھی۔ اور میں نے پھر رضائی اُڑھ کر جو دوسری طرف کروٹ بدلی تو میرا کھڑا ہوا لوڑا میرے قریب آچکی خالہ کے گانڈ سے ٹکرا گیا ۔ خالہ نیند کی بہت پکی ہے اس لئے اُس کو پتہ بھی نہیں چلا پر مجھ میں ایک بجلی کوند گئی۔ میں خالہ کے اور قریب ہو گیا اور اپنا لوڑا اُس کے گانڈ کے ساتھ تھوڑا اور سختی سے دبایا تو جسم میں کرنٹ بہنے لگا کیونکہ خالہ کی گانڈ بہت نرم تھی۔ پانچ منٹ تک میں اسی خالت میں رہا پھر میں نے اپنا لوڑا اپنے شلوار سے نکال دیا اور خالہ کی شلوار بھی نیچے کرلی اور خالہ کے گانڈ کے درمیاں لوڑا دے کر آہستہ آہستہ مسلنے لگا۔ مجھے لگا کہ میں آسمانوں میں اُڑ رہا ہوں۔ اسی دوراں خالہ نے کروٹ بدلی اور اُس کا چہرہ میرے سامنے آگیا۔ میں دو منٹ تک انتظار کرتا رہا پھر میں نے اُس کی آگے سے بھی شلوار نیچے کی اور اپنا لوڑا اُس کے بالوں سے بھرے چوت پر رگڑنا شروع کیا اب تو مجھے سے قابونہیں ہو پا رہا تھا اس لئے خالہ کو سیدھا لیٹا کر اُس کے اُوپر سوکر اُس کے رانوں میں اپنا لوڑا دے کر ہلانے لگا۔ مجھے اسی دوران محسوس ہوا کہ خالہ کی سانسیں تیز ہونے لگی ہیں پر وہ جان بوجھ کر سونے کا بہانہ کر رہی ہے۔ اسے لئے میرا حوصلہ بڑھ گیا ویسے بھی میرے سر پر اس وقت شیطان بیٹھا ہوا تھا اور مجھے وہ خالہ نہیں ایک عورت دیکھائی دے رہی تھی۔ جرات پا کر میں نے فیصلہ کیا کہ جس انداز سے ماموں کر رہے تھے میں بھی اُسی طرح ٹرائی ماروں اس لئے میں نے خالہ کی پوری شلوار اُتار دی اور اپنی بھی اور اپنے لوڑے کو خالہ کی چوت پر رکھ کر اندر کرنے کی کوشش کرنے لگا پر وہ اندر نہیں جا رہا تھا۔ پھر میں اپنے لوڑے کے سر پر تھوڑا سا تھوک لگا ئی اور خالہ کے چوت پر پھر اپنا لوڑا رکھا اور زور سے جو جھٹکا لگایا تو میرے لوڑے کا سرا اندر چلا گیا پر ساتھ ہی خالہ کی آہ کی آواز بھی آئی پر مجھے اس وقت کچھ نطر نہیں آرہا تھا میں نے اور زور لگایا اور پورا کے پورا اندار کر دیا ۔ لگتا تھا کہ خالہ کا چوت پہلے سے کھلا تھا کیونکہ اندر کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی پھر میں نے جو چودنا شروع کیا تو خالہ نے بھی جوش سے آہ آہ کی ہلکی ہلکی آوازیں نکالنا شروع کی اور اس دوران پانچ منٹ میں خالہ کے چوت سے پانی کا فوارہ نکل گیا پر میں اپنی دھن میں اُس کو چود رہا تھا اور خوب مزا آرہا تھا۔ اتنے میں مجھے لگا کہ میرے لوڑے سے کچھ نکل رہا ہے اور اچانک میں نے گرم پانی خالہ کے اندر چھوڑ دیا۔ اور جلدی سے شلوار پہن کر ساتھ سو گیا۔ ساتھیوں صبح کیا ہوا ۔۔۔اس کا احوال اپنے دوسرے کہانی میں سناوں گا


کئ دوستوں نے میری کہانی کو بکواس کہا، اچھا لگا کیونکہ تنقید سے ہی ایک بندہ کہانی لکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے میں نے کوئی کہانی نہیں لکھی اس لئے شاید لکھاری میں غلطی ہوئی ہے۔
دوستوں رات کو خالہ کے ساتھ سکس کرنے کے بعد میری تو زندگی بدل گئی۔ اور میں نے پہلی بار کسی عورت کا ذائقہ چکھا ۔ اور جب زبان کو ایک زائقہ چڑھ جاتا ہے تو پھر دل کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ ذائقہ بار بار چکھا جائے۔ اس لئے جب صبح اُٹھا تو خالہ سے آنکھ نہیں ملا پا رہا تھا۔ پر جب میں واش روم سے آیا تو خالہ میرے لئے ناشتہ لگا چکی تھی اوریہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ رات کو کیا ہوا ہے۔ میں نے بھی بات چھیڑنے کی کوشش نہیں کی پر رات کے تمام مناظر ایک ایک کرکے میرے آنکھو ں کے سامنے ناچ رہے تھے۔ جب میں نا ممانی کو دیکھا تو مجھے وہ چلتی ہوئی بھی اُسی طرح ننگی دکھائی دے رہی تھی اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ کاش ماموں کی جگہ میں اُن کے ساتھ سوجاتا۔ کیونکہ ممان کے فیگر بہت بڑے ہیں۔ اور اس کی گانڈ بھی بہت نکلی ہوئی تھی اور دیکھ کے دل مچل رہا تھا کہ اس کو کسی طریقے سے مس کیا جائے۔پر کوئی تدبیر سوچ میں نہیں آرہی تھی۔دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد سر میں شدید درد شروع ہوااور ہلکا ہلکا بخار بھی چڑھ گیا ۔ممانی نے میری حالت دیکھی تو سردرد اور بخار کی گولیاں دیں اور کہا کہ میرے روم میں سو جاو اور آرام کرلو۔ جب میں ممانی کے روم میں سو گیا تو تو ممانی بھی باتیں کرتی ہوئی میرے سرہانے بیٹھ گئی اور میرا سر ہلکا ہلکا دبانے لگی۔ مجھےاس کے ہاتھوں کے لمس سے بہت سرور ملنے لگا اور میری کہنی بھی اُس کے رانوں سے مس ہونے کی وجہ سے میرا لوڑا کمبل کے اندر پوری طرح کھڑا ہوگیا۔ گولیاں کھانے سے اور ممانی کے لمس کی گرمی سے میری حالت بہت بہتر ہوئی ، پر میرے اندر کی گرمی پوری طرح جاگ گئی تھی۔ (جاری ہے) 

اور قدرتی طور پر میرا ہاتھ میرے لوڑے پر چلا گیا اور میں وہاں ممانی میرے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی اور یہاں میں اپنے لوڑے کو سہلا رہا تھا، بہت زیادہ مزا آرہا تھا۔ پر اچانک ممانی کو خالہ نے آواز دی اور ممانی باہر چلی گئی اور میرا سارا موڈ خراب کر دیا۔ میں خود پر برا بلا کہتا ہوا پتہ نہیں کس ٹائم نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔ گولیوں کے اثر سے میں بہت دیر تک سوتا رہا اور عصر کے وقت میری آنکھ کھلی۔ تو جسم بہت ہلکا محسوس ہوا۔ ممانی کے کہنے پر میں نے تھوڑا سا کھیر کھایا۔ ھر عدنان آگیا اور کہا کے چلو تھوڑا باہر گھومنے چلتے ہیں۔ میں بھی عدنا ن کے ساتھ ہوتا ہوا دور کھیتوں میں نکل گیا۔ عدنان کے ساتھ میری کافی بے تکلفی ہے۔ میں نے عدنان سے  کہا کہ یار تم کو کیا اچھا لگتا ہے۔ تو اس نے کہا کہ مجھے تو فلمیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈین فلمیں تو اُس نے کہا کہ نہیں مجھے سکس کی فلمیں بہت اچھی لگتی ہیں پر کوئی موقع نہیں ملتا دیکھنے کا کبھی کبھی یاسر چاچا کے بیٹے سلمان کے موبائل میں دیکھ لیتا ہوں پر وہ بھی ڈر ڈر کر۔ میں اُس کے شانوں پر ہاتھ مار کر کہا کہ یہ کیا بڑی بات ہے میرے پاس موبائل میں بہت سی سکس فلمیں پڑی ہیں۔ اس کو یقین نہیں آرہا تھا جب میں نے موبائل نکال کربرایانا بنک، جیل کیلی،جولیا آن اور کارا فن کی فل کہ سب پورن سٹار ہیں کی فلموں کی ایک ایک جھلک دکھا دی۔ عدنان نے کہا کہ عابد کیا میں آج رات یہ سب دیکھ سکتا ہوں میں نے کہا کہ ہان کیوں نہیں پر اگر میرا کوئی کال آئی تو کیا ہوگا۔ تو عدنان نے کہا کہ آج تم میرے ساتھ میرے روم میں سو جانا۔ میں نے بے دلی سے کہا کہ ٹھیک ہے کیونکہ مجھے تو خالہ کا چسکا لگا ہوا تھا۔ خیر رات کا کھانا کھانے کے بعد ممانی نے پوچھا کہ عابد نے کہا سونا ہے۔ عدنان نے فوراََ کہ دیا کہ آج عابد میرے روم میں سوئے گا۔ خالہ نے ایک نگاہ مجھ پر ڈالی کہ میں کیا کہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ممانی فیصلہ کرے میں کہاں سوں ۔ ممانی نے کہا کہ بیٹا یہ پورا گھر تمہارا ہے جہاں دل کرے۔ پر عدنان تو پوری طرح ضد پر آگیا کہ جہاں عابد سوئے گا وہاں میں بھی سونگا۔ میں نے کہا کہ چلو آج ہم عدنان کے مہمان بن جاتے ہیں۔ پس کھانا کھانے کے بعد میں بے دلی سے عدنان کے ساتھ اُس کے روم میں چلا گیا اور اپنے آپ کو کسنے لگا کہ کیوں اُس کو فلمیں دکھائی